البقرة 2:74 ثم قست قلوبكم من بعد ذالك فهي كالحجارة او اشد قسوة وان من الحجارة لما يتفجر منه الانهار وان منها لما يشقق فيخرج منه الماء وان منها لما يهبط من خشية الله وما الله بغافل عما تعملون ٧٤
ثُمَّ
قَسَتْ
قُلُوْبُكُمْ
مِّنْ
بَعْدِ
ذٰلِكَ
فَهِیَ
كَالْحِجَارَةِ
اَوْ
اَشَدُّ
قَسْوَةً ؕ
وَاِنَّ
مِنَ
الْحِجَارَةِ
لَمَا
یَتَفَجَّرُ
مِنْهُ
الْاَنْهٰرُ ؕ
وَاِنَّ
مِنْهَا
لَمَا
یَشَّقَّقُ
فَیَخْرُجُ
مِنْهُ
الْمَآءُ ؕ
وَاِنَّ
مِنْهَا
لَمَا
یَهْبِطُ
مِنْ
خَشْیَةِ
اللّٰهِ ؕ
وَمَا
اللّٰهُ
بِغَافِلٍ
عَمَّا
تَعْمَلُوْنَ
۟
پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس سب کے بعدپس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔ اور پتھروں میں سے تو یقیناً ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں۔ اور ان (پتھروں اور چٹانوں) میں سے بیشک ایسے بھی ہوتے ہیں جو شق ہوجاتے ہیں اور ان میں سے پانی برآمد ہوجاتا ہے۔ اور ان میں سے یقیناً وہ بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے اس سے کہ جو تم کر رہے ہو۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
پتھر دل لوگ ٭٭…
اس آیت میں بنی اسرائیل کو زجر و توبیخ کی گئی ہے کہ اس قدر زبردست معجزے اور قدرت کی نشانیاں دیکھ کر پھر بھی بہت جلد تمہارے دل سخت پتھر بن گئے۔ اسی لیے ایمان والوں کو اس طرح کی سختی سے روکا گیا اور کہا گیا «أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ وَ
پتھر دل لوگ ٭٭…
اس آیت میں بنی اسرائیل کو زجر و توبیخ کی گئی ہے کہ اس قدر زبردست معجزے اور قدرت کی نشانیاں دیکھ کر پھر بھی بہت جلد تمہارے دل سخت پتھر بن